حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اٹلی کے شہر ریجو ایمیلیا میں ایک شخص کی جانب سے قرآن کریم کی بے حرمتی اور اسے نذرِ آتش کرنے کے واقعے پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف حلقوں نے مذہبی مقدسات کی توہین کی مذمت کرتے ہوئے نفرت پھیلانے کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
فِرینتس وِنتورلی، جو سوشل میڈیا پر ’’اِترنو‘‘ کے نام سے سرگرم ہے، اس نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ قرآن کریم کے ایک نسخے کو پھاڑنے کے بعد آگ لگا رہا ہے۔ اس نے اپنے اس توہین آمیز اقدام کو ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ کے خلاف احتجاج قرار دیا۔
ونتورلی حال ہی میں یورپی پارلیمنٹ کے رکن روبرتو وانّاچی کی قیادت میں سرگرم سیاسی تحریک ’’فوتورو ناتسیونالے‘‘ میں شامل ہوا ہے۔ ویڈیو میں اس نے ’’اٹلی کو اسلامی انتہا پسندی سے بچانے‘‘ کا مطالبہ بھی کیا۔
روبرتو وانّاچی نے ردعمل میں کہا کہ وہ ونتورلی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور وہ صرف اس تحریک کا ایک رکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کا مذاق اڑانے کی حمایت نہیں کرتی۔ اس تحریک کے صوبائی ذمہ دار مارکو لوتسی نے بھی کہا کہ یہ ایک ذاتی اقدام تھا اور ونتورلی کے خلاف تنظیمی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
میئر کی جانب سے مذمت
ریجو ایمیلیا کے میئر مارکو ماساری نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’توہین آمیز اور تعصب پر مبنی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے شہر کی اسلامی برادریوں کے نام ایک خط میں اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک اہم مذہبی کتاب اور روحانی رہنما ہے، اس لیے اس کا احترام اور باہمی احترام شہری زندگی اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے ضروری ہے۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل سامنے آئے اور اسلام، عیسائیت، ہجرت اور اٹلی کی قومی شناخت جیسے موضوعات پر بحث شروع ہوگئی۔
مقدسات کی توہین کے خلاف کھلا خط
اس دوران اٹلی میں شہری کارکنوں اور اسلامی برادری کے نمائندوں کی جانب سے ایک کھلا خط بھی جاری کیا گیا، جس میں قرآن کریم کی بے حرمتی کی مذمت کی گئی۔
خط میں کہا گیا کہ مذہبی مقدسات کی جان بوجھ کر توہین کو معاشرے میں نفرت اور اختلافات بڑھانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ خط کے مصنفین نے ’’آزادیٔ اظہار‘‘ اور ’’نفرت پھیلانے‘‘ کے درمیان فرق واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بین المذاہب اور ثقافتی مکالمے، باہمی احترام اور سماجی امن کے تحفظ پر بھی زور دیا اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیز اور پُرتشدد ردعمل سے گریز کریں اور اپنے احتجاج کو قانون کے دائرے میں پُرامن طریقے سے پیش کریں۔









آپ کا تبصرہ